ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ؛ مذہب کے نام پر ووٹ غیر قانونی

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ؛ مذہب کے نام پر ووٹ غیر قانونی

Mon, 02 Jan 2017 14:37:13    S.O. News Service

نئی دہلی 2/ جنوری (ایس او نیوز/ ایجنسی) مذہب کی آڑ میں ووٹ مانگنے والوں کو سپریم کورٹ نے بڑا جھٹکا دیتے ہوئے ہندوتوا کیس میں تاریخی فیصلہ سنایا ہے. سپریم کورٹ نے معاملے میں دونوں فریقوں کی دلیل سن کر کہا کہ انتخابات میں مذہب کا استعمال کرنا غیر قانونی ہے. سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب اُترپردیش، پنجاب سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں اسی سال انتخابات ہونے جارہے ہیں.

سپریم کورٹ کے 7 ججوں کی آئینی بنچ نے کہا، 'مذہب، ذات، زبان کی بنیاد پر ووٹ نہیں مانگا جا سکتا . ہمارا آئین سیکولر ہے اور اس کی اس نوعیت کو برقرار رکھنا چاہئے. امیدوار یا ایجنٹ مذہب کا استعمال نہیں کر سکتے '

سپریم کورٹ نے صاف کہا کہ الیکشن ایک سیکولر مشق ہے اور یہ عمل ہمیشہ جاری رہنی چاہئے. تاہم سپریم کورٹ نے آگے یہ بھی واضح کیا کہ کسی شخص اور خدا کے درمیان رشتہ ذاتی معاملہ ہے. اس رشتے میں ریاستوں کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے.

کورٹ نے یہ فیصلہ ہندوتوا معاملے سے جڑی کئی درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا. اس سے پہلے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ نے ایک پٹیشن میں عدالت سے مداخلت کا مطالبہ کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مذہب اور سیاست کو ملا یا نہیں جانا چاہئے اور مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کے لئے ہدایات جاری کی جانی چاہئے.


Share: